ads

مرضی کی شادی کی خواہش، والدین نے بچی کا سر مونڈ دیا https://ift.tt/eA8V8J

مبینہ طور پر اس سترہ سالہ بچی پر تشدد کرتے ہوئے اس کا سر مونڈ دیا گیا تھا اور اسے مار پیٹ کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ فرانس میں سر مونڈ دینے کو پر تشدد جرم قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں ان خواتین کے سر مونڈ دیے جاتے تھے، جنہوں نے نازیوں کے ساتھ تعلق قائم کر رکھے تھے۔

پولیس نے بچی کے والدین، چچا اور چچی کو گرفتار کر لیا تھا۔ لیکن بعد میں انہیں عدالتی حکم نامے کے تحت بچی سے رابطہ نہ کرنے کی شرط پر رہا کر دیا گیا تھا۔

نائب استغاثہ مارگریٹ پاریٹی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا،'' بچی کے والدین، چچا اور چچی کے خلاف عدالتی کارروائی اس سال کے آخر میں شروع کی جائے گی۔‘‘

یہ بچی بوسنیا ہرزیگوووینا سے دو سال قبل اپنے خاندان کے ساتھ فرانس پہنچی تھی۔ یہاں کئی ماہ تک اس کا سربیا سے تعلق رکھنے والے ایک مسیحی لڑکے کے ساتھ میل جول رہا۔ معاملہ تب خراب ہوا جب اس لڑکی نے اس مسیحی لڑکے سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ مارگریٹ پاریٹی کا کہنا ہے،'' لڑکی کے والدین کا کہنا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اس لیے ان کی بیٹی مسیحی لڑکے سے شادی نہیں کر سکتی۔‘‘ اس بچی کے خاندان والوں نے بچی کا فون چھین لیا اور اس سے اپنے بوائے فرینڈ سے رابطہ کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ جس پر لڑکا لڑکی بھاگ گئے، جب وہ چار روز بعد واپس لوٹے تو انہیں لڑکی کے شدید ناراض والدین کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لڑکی کو الگ کمرے میں لے جا کر اس پر تشدد کیا گیا اور اس کا سر مونڈ دیا گیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3ghec2D

Post a Comment

0 Comments