کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے چینی دراندازی پر وزیراعظم نریندر مودی پر غلط بیانی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ گمراہ کرنے کی نئی روایت شروع کرکے جمہوریت کا مذاق اڑانے کے بجائے اس معاملہ پر سچ بول کر ستیہ گرہ کی شروعات کریں۔
مسٹر گاندھی نے کل ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے تحریر کیا کہ’ کیوں نہیں، ہمیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر، ملک میں بڑھتی ’جھوٹ کی گندگی‘ بھی صاف کرنی ہے۔ کیا وزیراعظم چینی حملہ کا سچ ملک کو بتاکر اس ستیہ گرہ کی شروعا ت کریں گے۔‘
क्यों नहीं! हमें तो एक कदम आगे बढ़कर, देश में लगातार बढ़ती 'असत्य की गंदगी' भी साफ़ करनी है।
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 8, 2020
क्या प्रधानमंत्री चीनी आक्रमण का सत्य देश को बताकर इस सत्याग्रह की शुरुआत करेंगे? pic.twitter.com/c3b5bzC48T
اس سے پہلے انہوں نے چینی دراندازی پرتفصیلات دینے والی وزارت دفاع کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ دستاویزات کو ہٹانے پر حکومت پر پھر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کا جمہوریت مخالف کام ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔
مسٹر گاندھی نے لکھا جب جب ملک جذباتی ہوا، فائلیں غائب ہوئیں۔ مالیا ہو یا رافیل، مودی یا چوکسی۔۔۔ گمشدہ لسٹ میں لیٹسٹ ہیں چینی حملہ والے دستاویز۔ یہ اتفاق نہیں، مودی حکومت کا جمہوریت مخالف تجربہ ہے۔
जब जब देश भावुक हुआ, फ़ाइलें ग़ायब हुईं।
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 8, 2020
माल्या हो या राफ़ेल, मोदी या चोक्सी...
गुमशुदा लिस्ट में लेटेस्ट हैं चीनी अतिक्रमण वाले दस्तावेज़।
ये संयोग नहीं, मोदी सरकार का लोकतंत्र-विरोधी प्रयोग है।
from Qaumi Awaz https://ift.tt/33BxGwq

0 Comments